10 دسمبر 2011 - 20:30

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامي کے نائب کمانڈر نے کہا ہے کہ ايران دنيا کے ان معدودے چند ممالک ميں سے ايک ہے جن کے پاس ڈرون طياروں کي ٹيکنالوجي اور ان طياروں کي اليکٹرانک اسکيننگ کا سسٹم موجود ہے-

ابنا: بريگيڈير حسين سلامي نے ايران ٹي وي کے چينل دو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس امريکي طيارے نے ايران کي فضائي حدود کي خلاف ورزي کي تھي اور جسے ايران کے ايرو اسپيس کے ادارے نے اپنے کنٹرول ميں لے کر زمين پر اتار ليا، وہ امريکا کے پيشرفتہ جاسوس طياروں ميں سے ايک ہے اور ہر لحاظ سے جاسوسي کے ميدان ميں امريکا کي جديد ترين ٹيکنالوجي کا غماز ہے- انہوں نے کہا کہ اس ڈرون طيارے کو ايک زميني اسٹيشن سے کنٹرول کيا جاتا ہے جبکہ اس ميں ڈسيمک، پروکام اور آئي ايم ايس جيسے تين سسٹم استعمال ہوئے ہيں اور يہ سسٹم ڈرون کو ديئے گئے ڈيٹا اور اس کے ذريعے زمين سے لي گئي تصاوير کے مطابق کام کرتے ہيں-

سلامي نے کہا کہ اگر کسي بھي وجہ سے يہ سسٹم کام کرنا بند کرديں اور ڈرون مدنظر علاقے سے باہر نکل جائے تو يہ طيارہ خودکار طريقے سے اپنے انہدام کے حکم پر عمل کرتا ہے تاکہ اس کي پيشرفتہ ٹيکنالوجي کسي کے ہاتھ نہ لگے-

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامي کے نائب کمانڈر نے کہا کہ يہ ڈرون طيارہ پچاس ہزار فٹ کي اونچائي تک  پرواز کرسکتا ہے اور اس ميں انساني اور مشيني آنکھوں سے پوشيدہ رہنے کي ٹيکنالوجي پائي جاتي ہے- انہوں نے کہا کہ ہم سائبر اور انفارميشن وار کے ميدان ميں  بالکل بھي مجبور نہيں ہيں اور دنيا کو يہ حقيقت تسليم کرليني چاہيے جبکہ ٹيکنالوجي اور انفارميشن کے ميدان ميں دشمن ہماري صلاحيتوں کو سمجھنے کي اہليت نہيں رکھتے اور ہماري ان کو يہ نصيحت ہے کہ وہ ہماري توانائيوں اور صلاحيتوں کے بارے ميں زيادہ غور کريں-بريگيڈير حسين سلامي نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ايران کي فضائي حدود ميں امريکا کے ڈرون طيارے کي جارحيت، ايک دشمنانہ عمل اور جرم ہے، کہا کہ اس کارروائي پر سفارتي سطح پر ردعمل ظاہر کيا جانا چاہيے اور امريکيوں کو سياسي لحاظ سے بھي اپنے اس اقدام کا جواب دينا چاہيے-..............

/169